جاں سوز

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - جان جلانے والا، ایذا دینے والا، تکلیف پہنچانے والا۔ شہریار نے یہ قصہ جان سوز . اپنے بھائی کی زبانی سنا۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ١٠ ) ٢ - [ مجازا ]  (کسی کی ہمدردی میں) اپنا جی جلانے والا، ہمدرد۔  ہمیں اک ناصح جاں سوز درد دل سناتا ہے یونہی ناکام پھر جائے گی ہاتف کی ندا کب تک      ( ١٩٣٨ء، نغمۂ فردوس، ٣٥:٢ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'جاں' کے ساتھ فارسی مصدر 'سوختن' سے مشتق صیغۂ امر 'سوز' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے مرکب توصیفی 'جاں سوز' بنا۔ ١٧١٣ء میں فائز کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جان جلانے والا، ایذا دینے والا، تکلیف پہنچانے والا۔ شہریار نے یہ قصہ جان سوز . اپنے بھائی کی زبانی سنا۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ١٠ )